Book - حدیث 3008

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابُ مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ حسن حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ وَكَانَ التَّمْرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِهِ مِنْ الْخُمُسِ مِائَةَ وَسْقٍ تَمْرًا وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُنَّ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَهَا نَخْلًا بِخَرْصِهَا مِائَةَ وَسْقٍ فَيَكُونَ لَهَا أَصْلُهَا وَأَرْضُهَا وَمَاؤُهَا وَمِنْ الزَّرْعِ مَزْرَعَةَ خَرْصٍ عِشْرِينَ وَسْقًا فَعَلْنَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِي لَهَا فِي الْخُمُسِ كَمَا هُوَ فَعَلْنَا

ترجمہ Book - حدیث 3008

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: خیبر کی زمین کا حکم سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہو گیا تو یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ہمیں یہیں رہنے دیا جائے ۔ ہم محنت کریں گے اور جو آمدنی ہو گی اس سے آدھی آپ کو ادا کریں گے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میں تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیتا ہوں کہ جب تک ہم چاہیں گے ۔ “ چنانچہ وہ اسی کے مطابق وہاں رہے ۔ اور خیبر سے حاصل ہونے والی آدھی کھجور کئی حصوں پر تقسیم کی جاتی تھی اور رسول اللہ ﷺ پانچواں حصہ لیا کرتے تھے ۔ اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں سے ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو عنایت فرمایا کرتے تھے ۔ جب سیدنا عمر ؓ نے یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ کیا تو ازواج نبی کریم ﷺ سے کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے میں اسے اتنے درخت دئیے دیتا ہوں جس سے سو وسق کھجور حاصل ہو اور وہ درخت ‘ زمین اور پانی اسی کا ہو گا ۔ اور ایسے ہی اس قدر زمین دئیے دیتا ہوں جس سے بیس وسق جو حاصل ہوں ۔ اور جو پسند کرے ہم خمس میں سے اس کا حصہ حسب سابق ادا کرتے رہیں گے ۔ 1۔صحیح مسلم کی روایت کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے زمین اور پانی کا انتخاب کیا۔ اور بعض دیگر ازواج مطہرات نے رضی اللہ عنہما نے حسب سابق متعین حصہ چنا۔صحیح مسلم کی یہ روایت بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے ہے۔اور زیادہ مفصل اور واضح ہے۔اس روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے خیبر میں فے کی زمینوں کی آمدنی میں سے سالانہ خرچ کے طور پر اپنی ہر زوجہ محترمہ کو کل سووسق اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو مقرر فرمائے تھے۔(صحیح مسلم المساواۃ۔حدیث1551)ابو دائود کی حدیث 3006 میں بھی یہی مقدار مذکورہے۔البتہ موجودہ روایت میں کل سووسق کی بجائے کھجورسو وسق اور اس کے علاوہ جو بیس وسق کی مقدار بیان کی گئی ہے۔معلوم ہوتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرنے والے رایوں میں سے کوئی راوی ظن وتخمین سے مقدار بیان کرتے ہوئے التباس کا شکار ہوگیا۔اور کل سو کی بجائے کھجورسووسق اور جو بیس وسق کا زکرکیا گیا(فتح الودود بحوالہ عون المعبود باب ما جاء فی حکم ارض خیبر)2۔خیبر کے طریق کے مطابق بٹائی پرزمین لینا اوردینا جائز ہے