Book - حدیث 3003

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابٌ كَيْفَ كَانَ إِخْرَاجُ الْيَهُودِ مِنْ الْمَدِينَةِ صحیح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَاهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أُرِيدُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 3003

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: یہودی مدینہ منورہ سے کیسے نکالے گئے ؟ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ” چلو اٹھو یہودیوں کی طرف چلو ۔ “ چنانچہ ہم آپ ﷺ کی معیت میں چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ رک گئے اور انہیں پکارا اور فرمایا ” اے جماعت یہود ! اسلام قبول کر لو ! امن میں رہو گے ۔ “ انہوں نے کہا : ابوالقاسم ! آپ نے پیغام پہنچا دیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا ” اسلام قبول کر لو ! سلامتی میں رہو گے ۔ “ انہوں نے کہا : ابوالقاسم ! آپ نے پیغام پہنچا دیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میں یہی چاہتا ہوں ( کہ تم اقرار کر لو کہ میں نے پیغام پہنچا دیا ہے ) ۔ “ آپ ﷺ نے تیسری بار فرمایا ” یاد رکھو ! زمین اللہ کی ہے ‘ اور اس کے رسول کی اور میں تمہیں اس زمین سے جلا وطن کرنے والا ہوں ۔ جسے اپنے مال میں سے کچھ ملتا ہو تو وہ اسے بیچ لے ‘ ورنہ یاد رکھو ! زمین اللہ کی ہے اور اس کے رسول کی ۔ “ رسول اللہ ﷺ نے یہود کی ریشہ دوانیاں ظاہر اورثابت ہونے کے بعد جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ فرمایا۔کسی سزا کے اعلان سے پہلے انہیں اسلام لانے کی دعوت دی۔ پھر جلا وطنی کی سزا سے پہلےان کو بتادیاگیا کہ وہ اپنی جایئدادیں وغیرہ فروخت کرلیں۔عنقریب سزا نافذ ہوجائے گی۔گویا آپ کی پوری کوشش تھی کہ یہودکی زیادتیوں کے باوجودمسلمانوں کیطرفسے ان پرکوئی زیادتی نہ ہو۔اسلام قبول کرلینے میں ہی سلامتی ہے۔یعنی اسلام قبول کرنے سے ٖغداری جیسے جرم کی پر بھی سزا ختم ہوجاتی ہے۔ اس دنیا میں جان ومال اورآبرو کی اور آخرت میں اللہ کی پکڑ اورعذاب جہنم سے سلامتی ہے۔2۔ زمین اللہ کی ہے کا مفہوم یہ ہے کہ زمین اسی نے پیدا کی ہے۔ اس کا نافذ کرد ہ قانون فطرت نافذ ہے۔اس کا حقیقی مالک وہی ہے اور اللہ کے رسولﷺ اللہ کی طرفسے خلیفہ ہیں۔کہ اس میں اس کی شریعت نافذ کریں۔ 4۔شرعی حق کے نفاذ کی غرض سے کس کو اپنا مال فروخت کرنے پر آمادہ کرنا جائز اور ا س کی خرید وفروخت صحیح ہے۔