Book - حدیث 2995

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابُ مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ صحیح حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سُدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا

ترجمہ Book - حدیث 2995

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: صفی کے احکام و مسائل سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم خیبر آئے ۔ جب اﷲ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ ﷺ کے سامنے صفیہ بنت حیی کے حسن و جمال کا تذکرہ ہوا ‘ ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا جبکہ وہ ابھی دلہن تھیں ۔ پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں ( ان کے صدمے کے ازالے اور معاشرے میں اونچا مقام دینے کے لیے ) اپنے لیے منتخب فر لیا ۔ آپ ﷺ اسے لے کر روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب ہم سد صہباء کے مقام پر پہنچے تو وہ حلال ( حیض سے پاک ) ہو گئیں تو آپ نے ان کے ساتھ شب زفاف گزاری ۔ جنگ میں ہاتھ میں آنے والی لونڈیوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ جب تک حمل نہ ہونے کا یقین نہ ہو جائے ان سے صحبت جائز نہیں۔اور یہی ان کی عدت ہے۔اسے استبراء رحم (رحم کے صاف ہونے کا پتہ چل جانا)کہتے ہیں۔2 ۔ سدا الصھباء خیبر سے باہر ایک جگہ کا نام ہے۔ سد کی سین پرپیش اورزبردونوں منقول ہیں۔