Book - حدیث 2961

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابٌ فِي تَدْوِينِ الْعَطَاءِ ضعیف حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنِي فِيمَا حَدَّثَهُ ابْنٌ لِعَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِنَّ مَنْ سَأَلَ عَنْ مَوَاضِعِ الْفَيْءِ فَهُوَ مَا حَكَمَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهُ الْمُؤْمِنُونَ عَدْلًا مُوَافِقًا لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ اللَّهُ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ فَرَضَ الْأَعْطِيَةَ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقَدَ لِأَهْلِ الْأَدْيَانِ ذِمَّةً بِمَا فَرَضَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْجِزْيَةِ لَمْ يَضْرِبْ فِيهَا بِخُمُسٍ وَلَا مَغْنَمٍ.

ترجمہ Book - حدیث 2961

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: غنیمت اور فے لینے والوں کے نام ضبط تحریر میں لانا سیدنا عمر بن عبدالعزیز ؓ نے لکھا : جو شخص یہ پوچھے کہ مال فے کہاں کہاں خرچ ہوتا ہے ‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا مصرف وہی ہے جس کا سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے فیصلہ کیا تھا اور اہل ایمان نے بھی اسے نبی کریم ﷺ کے فرمان کی روشنی میں عدل پر مبنی پایا تھا ۔ آپ ﷺ نے سیدنا عمر ؓ کے بارے میں فرمایا تھا ” اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے ۔ “ سیدنا عمر ؓ نے مال فے کے عطایا کو مسلمانوں کے لیے خاص کیا ہوا تھا اور دیگر مذاہب والوں کے لیے امن و امان کا عہد دیا تھا بعوض اس جزیہ کے جو ان سے لیا جاتا تھا اور ان کا خمس یا غنیمت میں کوئی حصہ نہ تھا یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ لیکن امر واقع یہی تھا چونکہ غیر مسلم کا جہادی امور اورملک کے دفاع میں کوئی حصہ نہیں تھا۔لہذاان کے لئے حق الخدمت بھی نہیں تھا۔