Book - حدیث 2948

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابٌ فِيمَا يَلْزَمُ الْإِمَامُ مِنْ أَمْرِ الرَّعِيَّةِ وَالْحَجَبَةِ عَنْهُ صحیح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا مَرْيَمَ الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مَا أَنْعَمَنَا بِكَ أَبَا فُلَانٍ وَهِيَ كَلِمَةٌ تَقُولُهَا الْعَرَبُ فَقُلْتُ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ أُخْبِرُكَ بِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَقْرِهِ قَالَ فَجَعَلَ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ

ترجمہ Book - حدیث 2948

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: رعیت کے تعلق سے حاکم کے فرائض کا بیان اور یہ کہ وہ عوام کو ملنے سے گریز نہ کرے جناب ابومریم ازدی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ ؓ سے ملنے گیا ( جب کہ وہ شام میں حکمران تھے ) تو انہوں نے کہا : اے ابوفلاں ! کیا خوب آئے ہو ( یعنی ہمیں تمہارے آنے سے خوشی ہوئی ہے ) اور یہ جملہ « أنعمنا بك» عرب لوگ بطور استقبال و خوش آمدید بولا کرتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا : ایک حدیث ہے جو میں آپ کو بتانے آیا ہوں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرماتے تھے ” اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی اور ذمہ دار بنا دیا ہو ، پھر وہ ان کی ضروریات ، حاجت مندی اور فقیری میں ان سے ملنے سے گریز کرے ( حجاب میں رہے ) تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے حجاب فر لے گا ، جب کہ وہ ضرورت مند ہو گا ، محتاج ہو گا اور فقیر ہو گا ۔ “ چنانچہ انہوں نے ایک آدمی مقرر کر دیا جو لوگوں کی ضروریات اور حاجات ان تک پہنچاتا تھا ۔ غیر شرعی اور غیر اسلامی سیاست میں یہ ہوتا ہے کہ حاکم اور رعیت میں فاصلہ ضروری سمجھا جاتاہے۔ ان کا وہم ہے کہ عوام سے بہت زیادہ میل جول ہیبت اور رعب داب کو کم کردیتاہے۔جبکہ اسلامی سیاست اس کے برخلاف ہے۔ حاکم ان کاراعی اور خدمت گار ہے۔اس کاعوام سے ملنے سے گریز کرنا اور ان کی ضروریات کو پوری نہ کرنا دنیا اور آخرت کا نقصان ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گورنروں کی سخت سرزنش کرتے اگر یہ معلوم ہوتا کہ عام لوگ بلا روک ٹوک ان سے نہیں مل سکتے۔