Book - حدیث 294

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ مَنْ قَالَ تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا صحیح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اسْتُحِيضَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُمِرَتْ أَنْ تُعَجِّلَ الْعَصْرَ، وَتُؤَخِّرَ الظُّهْرَ، وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَأَنْ تُؤُخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ، وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا. فَقُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ.

ترجمہ Book - حدیث 294

کتاب: طہارت کے مسائل باب: ان حضرات کے دلائل جو قائل ہیں کہ مستحاضہ نمازیں جمع کرے او رہر نماز... ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ آنے لگا تو اسے حکم دیا گیا کہ نماز عصر کو جلدی اور ظہر کو مؤخر کرے ۔ اور ان دونوں ( نمازوں ) کے لیے ایک غسل کرے ۔ اور مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلدی کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے اور فجر کی نماز کے لیے ایک غسل کرے ۔ میں نے ( یعنی شعبہ نے ) عبدالرحمٰن سے کہا : کیا یہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے ؟ انہوں نے کہا : میں تجھے جو بھی بیان کرتا ہوں وہ نبی کریم ﷺ ہی کی حدیث ہوتی ہے ۔ یہ عورت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا تھیں جیسے کہ آئندہ حدیث میں آرہا ہے ۔ اور یہ غسل مستحب ہے ۔ ورنہ ایک ہی غسل کافی ہے جیسے کہ اگلے باب کی احادیث میں آرہا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صاحب عذر اور مریض ، نمازوں کو جمع بھی کرسکتا ہے ۔