Book - حدیث 2936

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابٌ فِي السِّعَايَةِ عَلَى الصَّدَقَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَسْبَاطِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ

ترجمہ Book - حدیث 2936

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: صدقات وصول کرنے والے کا ثواب سیدنا رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرماتے تھے ” حق کے ساتھ صدقات جمع کرنے والا ایسے ہے جیسے کہ مجاہد فی سبیل اللہ حتیٰ کہ وہ گھر لوٹ آئے ۔“ جہاں صدقات وذکواۃ ادا کرنے کی فضیلت اور اجر ہے۔وہاں انھیں مسلمانوں سے اکھٹا کرکے امانت اور دیانت سے بیت المال سے جمع کرانے والا بھی صاحب فضیلت ہے۔جلیل القدر صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین اوردیگر صالحین امت یہ کام کرتے رہے ہیں۔ اور اگر کوئی عامل واجب شرعی سے مذید طلب کرے تو حرام ہے۔ ہمارے موجودہ احوال سے جب سے حکومت نے اس مدسے دستبرداری اختیار کی ہے۔ تو مسلمان اپنے طور پریہ وظیفہ ادا کرتے ہیں۔اور اسلامی اشاعت کرنے والے ادارے اسی مد سے اپنا خرچ پورا کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ رقومات حاصل کرنا اور جمع کرنا بھی ایک اہم زمہ داری ہے۔ جب کہ نادان مسلمان ایسے افراد کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جویکسر غلط اور داعیان حق کی حوصلہ شکنی ہے۔ اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ شرعی زمہ داری سے یہ کام کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں باعث اجر ہے۔ان شاء اللہ۔البتہ جولوگ اس میں خیانت کرکے غلول (بددیانتی) جیسے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔وہ قابل نفرین ہے۔اورآج کے دور میں ان کی کثرت ہے۔یہ صحیح لوگوں کے لئے بھی باعث بدنامی ہیں۔