Book - حدیث 2930

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَبِ الْإِمَارَةِ منکر حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ بِشْرِ بْنِ قُرَّةَ الْكَلْبِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا ثُمَّ قَالَ جِئْنَا لِتَسْتَعِينَ بِنَا عَلَى عَمَلِكَ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ قَوْلِ صَاحِبِهِ فَقَالَ إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَهُ فَاعْتَذَرَ أَبُو مُوسَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَمْ أَعْلَمْ لِمَا جَاءَا لَهُ فَلَمْ يَسْتَعِنْ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ حَتَّى مَاتَ

ترجمہ Book - حدیث 2930

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: حکومت طلب کرنے کا مسئلہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ پس ان میں سے ایک نے ( بات کرنے کے لیے ) کلمات تشہد پڑھے اور پھر کہا : ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنے کام میں کوئی مدد لیں ( یعنی عامل اور حاکم بنا دیں ) اور دوسرے نے بھی اپنے ساتھی کی سی بات کی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص یہ ذمہ داری طلب کرتا ہے وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ خائن ہوتا ہے ۔ “ چنانچہ ابوموسیٰ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے معذرت چاہی اور کہا : مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ کس مقصد سے آئے ہیں ۔ اور پھر آپ نے اپنی وفات تک ان سے کسی کام میں مدد نہیں لی یہ حدیث ضعیف منکر ہے۔لیکن اس سے پہلے روایت اور دیگر صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ حکومت منصب اور عہد وطلب کرنا شرعا محبوب نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ آجکل اکثر لوگ حکومتی مناصب چونکہ طلب کر کے اور ہرطرح کے جتن کر کے لیتے ہیں۔تو توفیق ربانی ان کے شامل حال نہیں ہوتی۔