Book - حدیث 2915

كِتَابُ الْفَرَائِضِ بَابٌ فِي الْوَلَاءِ صحیح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا حَاضِرٌ قَالَ مَالِكٌ عَرَضَ عَلَيَّ نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَاكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ

ترجمہ Book - حدیث 2915

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل باب: ولاء کا بیان سیدنا ابن عمر ؓ سے رویت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے ارادہ کیا کہ ایک لونڈی خرید کر آزاد کر دیں ‘ تو لونڈی کے مالکوں نے کہا : ہم یہ آپ کو فروخت کر دیتے ہیں ‘ لیکن اس کا ولاء ہمارے لیے رہے گا ‘ ( اس کی وفات پر اس کا مال ہم لیں گے یا نسبت ولاء ہم سے متعلق رہے گے ۔ ) سیدہ عائشہ ؓا نے ان کی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ( ان کی یہ بات ) تیرے لیے کوئی مانع نہیں ہے ‘ کیونکہ ولاء اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے ۔ “ فوائد ومسائل۔1۔آقا اور اس کی زیر ملکیت غلام کے مابین تعلق (ولاء) کہلاتا ہے۔غلام کو آزاد کردینے کے بعد بھی یہ تعلق قائم رہتا ہے۔آذاد کرنے والے کو مولیٰ (معتق)(ت کے نیچے زیریعنی آزاد کرنے والا) اور آزاد شدہ کو مولیٰ (معتق)(ت پرزبر یعنی آزاد کیا ہوا) کہتے ہیں۔ اور ان کے مابین نسبت وقرابت کوولاء کہتے ہیں۔ اور اس تعلق کوکسی طور تبدیل فروخت یا ہبہ نہیں کیا جاسکتا۔2۔غیر شرعی شرطیں لغو محض ہوتی ہیں ۔اور ان کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا