Book - حدیث 2894

كِتَابُ الْفَرَائِضِ بَابٌ فِي الْجَدَّةِ ضعیف حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ خَرَشَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّهُ قَالَ جَاءَتْ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ النَّاسَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَتْ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ فَإِنْ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا

ترجمہ Book - حدیث 2894

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل باب: دادی نانی کی وراثت کا بیان سیدنا قبیصہ بن ذؤیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک ( میت کی ) ” نانی “ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آئی ‘ وہ اپنا حق وراثت طلب کر ہی تھی ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : اﷲ کی کتاب میں تیرا کوئی حصہ ( مذکور ) نہیں ہے اور نہ مجھے نبی کریم ﷺ کی سنت سے کچھ معلوم ہے ‘ تم لوٹ جاؤ حتیٰ کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں ۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں ( صحابہ ) سے پوچھا تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ہاں حاضر تھا تو آپ ﷺ نے اسے ( نانی کو ) چھٹا حصہ دیا تھا ۔ ابوبکر ؓ نے پوچھا : کیا اس خبر کے سلسلے میں تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ تو محمد بن مسلمہ ؓ اٹھے اور انہوں نے اسی طرح کہا : جیسے کہ مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کہا تھا ۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر ؓ نے نانی کو یہ حصہ دیا ۔ پھر ایک اور ” دادی “ سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئی ‘ وہ اپنا حق وراثت طلب کر رہی تھی ۔ انہوں نے کہا : اﷲ کی کتاب میں تمہارا کوئی حق ( مذکورہ ) نہیں ۔ اور جو فیصلہ اس سے پہلے ہوا ہے وہ دوسری ( نانی ) کے لیے تھا اور میں حقوق وراثت میں کچھ نہیں بڑھا سکتا ۔ لیکن وہ چھٹا حصہ ہی ہے ۔ اگر تم دونوں ( نانی اور دادی ) جمع ہو جاؤ تو یہ حصہ تم دونوں کے مابین ہو گا ۔ اور جو تم میں سے کوئی اکیلی ہو ( دادی ہو ‘ نانی نہ ہو ‘ یا نانی ہو ‘ دادی نہ ہو ) تو یہ چھٹا حصہ پورے کا پورا لے گی ۔ اس روایت کی بعض حضرات نے تضعیف کی ہے۔لیکن مسئلہ یوں ہی ہے کہ جدہ کالفظ نانی اور دادی دونوں کےلئے بولاجاتا ہے ۔اور ان کا حصہ چھٹا ہی ہوتا ہے۔