Book - حدیث 2883

كِتَابُ الْوَصَايَا بَابُ مَا جَاءَ فِي وَصِيَّةِ الْحَرْبِيِّ يُسْلِمُ وَلِيُّهُ أَيُلْزِمُهُ أَنْ يُنْفِذَهَا حسن حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ أَوْصَى أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً فَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ فَقَالَ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْصَى بِعَتْقِ مِائَةِ رَقَبَةٍ وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَةً أَفَأُعْتِقُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ عَنْهُ أَوْ تَصَدَّقْتُمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتُمْ عَنْهُ بَلَغَهُ ذَلِكَ

ترجمہ Book - حدیث 2883

کتاب: وصیت کے احکام و مسائل باب: کافروں کی وصیت پر عمل کیا جائے یا نہ ؟ جبکہ وارث مسلمان ہو گیا ہو عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ گردنیں آزاد کرنے کی وصیت کی ہے اور ( میرے بھائی ) ہشام نے ان کی طرف سے پچاس غلام آزاد کر دیے ہیں اور پچاس اس کے ذمے باقی ہیں ۔ تو کیا میں اس کی طرف سے آزاد کر دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اگر وہ مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے غلام آزاد کرتے یا صدقہ کرتے یا اس کی طرف سے حج کرتے تو اس کو پہنچ جاتا ۔ “ ایصال ثواب یا وصیت کا فائدہ صرف مسلمان کو ہوتاہے۔کافر کونہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر کی وصیت پر عمل کرنا مسلمان کےلئے کوئی ضروری نہیں ہے۔ اور جو کوئی شخص چاہتا ہے کہ مرنے کےبعد اس کے عزیزوں کی دعایئں اور خیرات وثواب اسے پہنچتا رہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی ایمان والی بنائے۔