Book - حدیث 2872

كِتَابُ الْوَصَايَا بَابُ مَا جَاءَ فِي مَا لِوَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يَنَالَ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ حسن صحيح حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ وَلِي يَتِيمٌ قَالَ فَقَالَ كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَادِرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ

ترجمہ Book - حدیث 2872

کتاب: وصیت کے احکام و مسائل باب: یتیم کا سر پرست اس کے مال سے کس قدر لینے کا مجاز ہے ؟ سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے ‘ وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا : میں فقیر ہوں اور میرے پاس کچھ نہیں ہے اور میرے ہاں ایک یتیم بھی ہے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” تو اپنے یتیم کے مال سے کھا سکتا ہے ‘ لیکن اسراف اور فضول خرچی ہو ‘ نہ جلدی کرنے والا ہو ( کہ اس کے بڑے ہونے سے پہلے پہلے اس کے مال کو خرچ کر ڈالے ) اور نہ اس کے مال سے تو کوئی جمع پونجی بنانے والا ہو ۔ “