Book - حدیث 2867

كِتَابُ الْوَصَايَا بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْإِضْرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ ضعیف حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْصَّمَدِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُدَّانِيُّ حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ قَالَ وَقَرَأَ عَلَيَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ هَا هُنَا مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا يَعْنِي الْأَشْعَثَ بْنَ جَابِرٍ جَدَّ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ

ترجمہ Book - حدیث 2867

کتاب: وصیت کے احکام و مسائل باب: وصیت میں کسی کو نقصان پہنچانا ناجائز ہے سیدنا ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ایک انسان مرد یا عورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت کے عمل کرتے رہتے ہیں ‘ پھر جب ان کی موت کا وقت آتا ہے تو وصیت میں ( وارثوں کو ) نقصان دے جاتے ہیں تو ان کے لیے آگ واجب ہو جاتی ہے ۔ “ ( شہر بن حوشب نے ) کہا : سیدنا ابوہریرہ ؓ نے مجھ پر «من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار حتى بلغ ذلك الفوز العظيم» تک آیات تلاوت کیں ۔ ” وصیت یا قرض کی ادائیگی کے بعد جبکہ وصیت کرنے والے نے نقصان نہ پہنچایا ہو ( ورثے کی تقسیم کی جائے ۔ ) یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ خوب علم والا حوصلے والا ہے ۔ یہ حدیں ہیں اللہ کی جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو اسے اللہ ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ وہ ان میں ہمیشہ رہے گا اور یہی عظیم کامیابی ہے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں ( اس سند میں ) اشعث بن جابر ‘ نصر بن علی کا دادا ہے ۔ معنی واضح ہیں کہ وصیت میں وارثوں کو نقصان پہنچانا گناہ کبیرہ اور اللہ کی حدود سے تجاوز ہے۔اورایسی وصیت جائز نہیں۔