Book - حدیث 2862

كِتَابُ الْوَصَايَا بَابُ مَا جَاءَ فِي مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْوَصِيَّةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ

ترجمہ Book - حدیث 2862

کتاب: وصیت کے احکام و مسائل باب: وصیت کرنے کی تاکید سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کسی بھی مسلمان کو لائق نہیں کہ اس کے پاس کوئی چیز ہو جس کے متعلق وہ کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو تو وہ دو راتیں بھی نہ گزارے مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو ۔ “ حدیث میں (يبيت ليلتين)سے مراد یہ ہے کہ اسے وصیت لکھنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔تحدید مراد نہیں ہے۔کیوکہ مسند ابی عوانۃ اور السنن کبریٰ للبیقی میں (ليلة او ليلتين)ایک ر ات یا دو راتوں کا زکر ہے۔ صحیح مسلم اور سنن نسائی میں (ثلاث لیال) تین راتوں کازکر بھی ملتاہے۔بہرحال انسان کو اپنی موت سے کبھی غافل نہیں ہوناچاہیے۔ نہ معلوم کس وقت بلاوا آجائے۔ لہذا اگر کوئی قرض ہو یا امانت یا کوئی اور اہم معاملہ تو چاہیے کہ اسے اپنے ہاں لکھ رکھے۔ تاکہ وارثوں کو اس کی تنفیذ میں آسانی رہے۔اورحقوق کے معاملے میں مرنے والے پر کوئی بوجھ باقی نہ رہ جائے۔اس صورت میں یہ امرواجب ہے۔لیکن اگرکوئی حق واجب نہ ہو تو وصیت کرنا مستحب ہے واجب نہیں۔جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آرہاہے۔