Book - حدیث 2843

كِتَابُ الضَّحَايَا بَابٌ فِي الْعَقِيقَةِ حسن صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غُلَامٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ كُنَّا نَذْبَحُ شَاةً وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ

ترجمہ Book - حدیث 2843

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: عقیقے کے احکام و مسائل جناب عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سیدنا بریدہ ؓ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ دور جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں بچے کی ولادت ہوتی تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچے کے سر پر چپڑ دیتا تھا اور جب سے اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا ہے تو ہم ایک بکری ذبح کرتے ہیں ، بچے کا سر مونڈتے ہیں اور اس کے سر پر زعفران مل دیتے ہیں ۔ مسند بزار میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا س مروی ہے۔کہ نبی کریم ﷺ نے حکمدیا۔ بچے کے سر پرخون کی بجائے خوشبو (ذعفران) لگائو۔(مختصر زوائد مسند بزار۔499/1 حدیث 860)2۔مذکورہ احادیث عقیقے کی مشروعیت اور سنت ہونے پر واضح دلالت کرتی ہیں۔لاریب ! عقیقہ سنت موکدہ ہونے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اپنا ذاتی عمل بھی ہے۔عقیقے کی احادیث کئی صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہے۔مثلا عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا لہذا منکرین کاقول ناقابل توجہ ہے