Book - حدیث 2838

كِتَابُ الضَّحَايَا بَابٌ فِي الْعَقِيقَةِ صحیح حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى< قَالَ أَبو دَاود: وَيُسَمَّى أَصَحُّ كَذَا قَالَ سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ وَإِيَاسُ ابْنُ دَغْفَلٍ وَأَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ وَيُسَمَّى وَرَوَاهُ أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُسَمَّى

ترجمہ Book - حدیث 2838

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: عقیقے کے احکام و مسائل سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے ( لہٰذا ) ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے ، اس کا سر مونڈا جائے اور نام رکھا جائے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں لفظ «يسمى» صحیح تر ہے ۔ سلام بن ابی مطیع نے قتادہ سے اور ایاس بن دغفل اور اشعث نے بواسطہ حسن لفظ «ويسمى» روایت کیا ہے اور اشعث نے حسن ہے ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے یہی لفظ «ويسمى» بیان کیا ہے ۔ بچے کے گروی ہونے کا مفہوم بقول امام احمد یہ ہے۔کہ بچے کا اگر عقیقہ نہ کیا جائے۔تو وہ اپنے ماں باپ کی شفاعت نہیں کرسکے گا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ عقیقہ کے واجب ہونے کے مفہوم میں ہے۔جیسے کہ قرض وغیرہ کی صورت میں ادایئگی کیے بغیر گروی چیز واپس نہیں ہوسکتی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچہ اپنے بالوں اور میل کچیل کے ساتھ گروی ہوتا ہے۔یعنی ان کا ازالہ کرنا چاہیے۔(عون المعبود)