Book - حدیث 2834

كِتَابُ الضَّحَايَا بَابٌ فِي الْعَقِيقَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: >عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ<. قَالَ أَبو دَاود: سَمِعْت أَحْمَدَ قَالَ: مُكَافِئَتَانِ, أَيْ: مُسْتَوِيَتَانِ، أَوْ مُقَارِبَتَانِ.

ترجمہ Book - حدیث 2834

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: عقیقے کے احکام و مسائل سیدہ ام کرز ؓا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ” لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر برابر ( ایک جیسی ) اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں : میں نے امام احمد ؓ سے سنا ، کہتے تھے کہ «مكافئتان» کے معنی ہیں کہ دونوں بکریاں برابر برابر ہوں یا قریب قریب ہوں 1۔وہ جانور جو نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے۔ اسے عقیقہ کہتے ہیں۔لغت میں ا س کے معنی ہیں۔ کاٹنا اورشق کرنا یہ لفظ بچوں کے سر کے بالوں پر بھی بولا جاتا ہے۔اور اسی مناسبت سے اس ذبیحہ کو عقیقہ کہتے ہیں۔فقہی طور پر اس کا حکم سنت مؤکدہ کا ہے۔2۔(مکافتان) کا تقاضا ہے۔ کہ دونوں جانوروں کی نوع بھی ایک ہو یعنی دونوں بکریاں ہوں۔یا بھیڑیں یا مینڈھے یہ نہیں کہ ایک بکری ہو اور دوسری بھیڑ