Book - حدیث 2818

كِتَابُ الضَّحَايَا بَابٌ فِي ذَبَائِحِ أَهْلِ الْكِتَابِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ}[الأنعام: 121], يَقُولُونَ: مَا ذَبَحَ اللَّهُ, فَلَا تَأْكُلُوا، وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَكُلُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ...}[ الأنعام: 121].

ترجمہ Book - حدیث 2818

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: اہل کتاب کے ذبیحہ کا حکم سیدنا ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» ” اور شیطان اپنے دوستوں کو الہام کرتے ہیں ۔ “ ( کی تفسیر ) میں مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں : جسے اللہ تعالیٰ نے ذبح کیا ( مارا ) ہو اسے مت کھاؤ اور جسے تم خود ذبح کرو ‘ وہ کھا لو ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا «ولا تأكلوا م لم يذكر اسم الله عليه» ” وہ چیز مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ۔ “ سورۃ مائدہ کی آیت نمبر5میں اہل کتاب کے ذبیحہ کی رخصت دی گی ہےجیسے کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔