Book - حدیث 2815

كِتَابُ الضَّحَايَا بَابٌ فِي النَّهْيِ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ وَالرِّفْقِ بِالذَّبِيحَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: خَصْلَتَانِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا- قَالَ: غَيْرُ مُسْلِمٍ: يَقُولُ: فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ-، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ

ترجمہ Book - حدیث 2815

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: جانوروں کو باندھ کر قتل کرنا منع ہے اور ذبیحہ کے ساتھ نرمی کرنے کا بیان سیدنا شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دو باتیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ احسان کو واجب کیا ہے ‘ سو جب تم قتل کرو تو اس میں بھی احسان کرو ۔ “ مسلم بن ابراہیم کے سوا کسی دوسرے راوی کے الفاظ ہیں «فأحسنوا القتلة» ” پس اچھائی کے ساتھ قتل کرو ۔ اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو ۔ چاہیئے کہ ذبح کرنے والا اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے جانور کو راحت پہنچائے ۔ یہ حکم عام ہے کہ کافر یا مجرم کو بھی اذیت دے کر قتل کرنا ناجائز ہے۔البتہ کچھ صورتیں مخصوص ہیں۔مثلا سولی چڑھانا۔قصاص لینا یا شادی شدہ زانی کو پتھر مار مار کر قتل کرنا۔لیکن بعد از قتل نعش کا مثلہ کرنا۔(اس کے اعضاء کاٹنا)جائز نہیں۔2۔قابل قتل جانوروں کو قتل کرتے ہوئے تاک کرنشانہ مارنا چاہیے۔تھوڑ ی تھوڑی چوٹ لگا کر انکے تڑپنے پھڑکنے سے لطف اندو ز ہونا حرام ہے۔اسی طرح ذبیحہ جانوروں کے لئے چھری کو خوب تیز کیاجائے۔اور مطلوبہ مقام پرچھری رکھی جائے۔اور جانور کو اچھی طرح سے پکڑا جائے۔یاباندھا جائے تاکہ ذبح کرنا آسان رہے