Book - حدیث 2805

كِتَابُ الضَّحَايَا بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ الضَّحَايَا ضعیف حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ وَيُقَالُ لَهُ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ. قَالَ أَبو دَاود: جُرَيٌّ سَدُوسِيٌّ بَصْرِيٌّ لَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ إِلَّا قَتَادَةُ.

ترجمہ Book - حدیث 2805

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: قربانی میں عیب دار جانوروں کا بیان سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسی قربانی کرنے سے منع فرمایا ہے جس کا کان یا سینگ جڑ سے کٹ گیا ہو یا ٹوٹ گیا ہو ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ جری بن کلیب ، سدوسی ہے ‘ بصرہ کا رہنے والا ہے اس سے قتادہ ؓ کے سوا اور کسی نے حدیث نہیں لی ۔ عضباء یا عضب کے ایک معنی یہی ہیں۔کہ سینگ کا اندرونی حصہ ٹوٹ گیا ہو۔اوردوسرے معنی وہ ہیں۔ جو درج زیل روایت میں ہیں۔یعنی آدھا سینگ ٹوٹا ہوا ہویا زیادہ۔