Book - حدیث 2802

كِتَابُ الضَّحَايَا بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ الضَّحَايَا صحیح حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ ابْنَ عَازِبٍ: مَا لَا يَجُوزُ فِي الْأَضَاحِيِّ؟ فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَأَصَابِعِي أَقْصَرُ مِنْ أَصَابِعِهِ، وَأَنَامِلِي أَقْصَرُ مِنْ أَنَامِلِهِ-، فَقَالَ: >أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الْأَضَاحِيِّ<، فَقَالَ: >الْعَوْرَاءُ بَيِّنٌ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ بَيِّنٌ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ بَيِّنٌ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ؟ قَالَ: >مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ<.قَالَ أَبو دَاود: لَيْسَ لَهَا مُخٌّ. حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ ابْنَ عَازِبٍ: مَا لَا يَجُوزُ فِي الْأَضَاحِيِّ؟ فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَأَصَابِعِي أَقْصَرُ مِنْ أَصَابِعِهِ، وَأَنَامِلِي أَقْصَرُ مِنْ أَنَامِلِهِ-، فَقَالَ: >أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الْأَضَاحِيِّ<، فَقَالَ: >الْعَوْرَاءُ بَيِّنٌ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ بَيِّنٌ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ بَيِّنٌ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ؟ قَالَ: >مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ<. قَالَ أَبو دَاود: لَيْسَ لَهَا مُخٌّ.

ترجمہ Book - حدیث 2802

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: قربانی میں عیب دار جانوروں کا بیان جناب عبید بن فیروز کہتے ہیں ‘ میں نے سیدنا براء بن عازب ؓ سے سوال کیا کہ قربانی میں کون سا جانور جائز نہیں ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہم میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور میری انگلیاں اور پورے آپ ﷺ کی انگلیوں اور پوروں سے بہت ہیچ ہیں ۔ آپ ﷺ نے ( چار انگلیوں کے اشارہ سے ) فرمایا ” چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں ہیں ‘ کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو ‘ بیمار جس کی بیماری واضح ہو ‘ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور انتہائی کمزور کہ اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو ۔ “ میں ( عبید بن فیروز ) نے کہا : مجھے ایسا جانور بھی ناپسند ہے جس کے دانت میں عیب ہو ‘ سیدنا براء ؓ نے کہا : جو تمہیں ناپسند ہو تو اسے چھوڑ دو مگر دوسروں کے لیے حرام نہ ٹھہراؤ ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : «لا تنقى» کے معنی ہیں جس ( کی ہڈیوں ) میں گودا نہ ہو ( بالکل لاغر ‘ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو ) ۔ امام نووی فرماتے ہیں۔ کہ مذکورہ بالا عیوب والے جانور یا جو اس سے بڑھ کر ہوں۔قربانی میں قطعاً جائز نہیں۔ اور بقول علامہ خطابی معمولی عیب قابل برداشت ہے۔کیونکہ حدیث میں واضح عیب کی ممانعت کا زکر ہے۔