Book - حدیث 2748

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِيمَنْ قَالَ: الْخُمُسُ قَبْلَ النَّفْلِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الشَّامِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَفِّلُ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ

ترجمہ Book - حدیث 2748

کتاب: جہاد کے مسائل باب: اس مسئلے کی دلیل کہ خمس پہلے نکالا جائے اور اضافی انعام بعد میں دیے جائیں سیدنا خبیب بن مسلمہ فہری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ( غنیمت میں سے ) پانچواں حصہ نکالنے کے بعد تیسرا حصہ نفل یعنی اضافی انعام کے طور پر تقسیم فرمایا کرتے تھے ۔ کفار سے مقابلے میں حاصل ہونے والے مال واسباب کو غنیمت کہا جاتا ہے۔اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے نام کاہوتا ہے۔جسے عربی میں خمس کہتےہیں۔رسول اللہ ﷺیہ حصہ اپنے صوابدید پر پانچ جگہ خرچ کرسکتےتھے۔اس مسئلے کا زکر دسویں پارے کی ابتداء میں ہواہے۔ ( وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ)(الانفال۔41) یہ جان لو کہ تمھیں جو کچھ بھی غنیمت میں ملے اس سے پانچواں حصہ اللہ کا ہے۔اور رسول ﷺ کا ہے۔اور قرابت داروں یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کاہے۔ بقیہ غنیمت کو مجاہدین میں تقسیم کیاجاتاہے۔پیدل کو ایک حصہ اور سوار کو مذید دو حصے ملتے ہیں۔اور کافروں سے بغیرلڑے بھڑے حاصل ہونے والے مال کو فے تعبیر کیاجاتاہے۔اور ا س کا مصرف بھی تقریبا یہی ہے۔(دیکھئے۔سورۃ الحشر آیات۔6وما بعد)