Book - حدیث 2685

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ قَتْلِ الْأَسِيرِ وَلَا يُعْرَضُ عَلَيْهِ الْإِسْلَامُ صحیح حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَهُ، جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ؟ فَقَالَ: >اقْتُلُوه<. قَالَ أَبو دَاود: ابْنُ خَطَلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَكَانَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ قَتَلَهُ.

ترجمہ Book - حدیث 2685

کتاب: جہاد کے مسائل باب: قیدی کو اسلام کی دعوت دیے بغیر قتل کر ڈالنے کا مسئلہ سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے ‘ تو آپ ﷺ کے سر پر خود تھی ۔ جب آپ ﷺ نے اسے اتارا تو آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس کو قتل کر ڈالو ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ ابن خطل کا نام عبداللہ تھا اور سیدنا ابوبرزہ اسلمی ؓ نے اس کو قتل کیا تھا ۔ 1۔رسول اللہ ﷺ کا خود پہنے مکہ میں داخل ہونا دلیل ہے کہ حج عمرے کے علاوہ حسب احوال انسان بغیر حرام کے مکہ میں داخل ہوسکتاہے۔2۔ابن خطل پہلے مسلمان ہوگیا تھا۔ اس کو رسول اللہ ﷺ نے کسی کام سے بھیجا اور ایک انصاری کو بطور خادم اس کے ساتھ روانہ کیا۔اس سے کوئی تقصیر (غلطی ) ہوئی تو اس نے اس انصاری کو قتل کرڈالا۔اور اس کا مال لوٹ لیا اور مرتد ہوگیا۔ سو اسی وجہ سے اس کو رسول اللہﷺ نے امان نہ دی۔اورقتل کرنے کا حکم دیا۔