Book - حدیث 2661

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُسْتَأْسَرُ صحیح حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

ترجمہ Book - حدیث 2661

کتاب: جہاد کے مسائل باب: آدمی جس سے قیدی بن جانے کا مطالبہ کیا جائے ابن عوف کی سند ہے کہ زہری نے کہا : مجھے عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے بیان کیا اور یہ بنی زہرہ کے حلیف اور سیدنا ابوہریرہ ؓ کے شاگردوں میں سے تھے اور حدیث بیان کی ۔ 1۔کفار کی امان یا قید قبول نہ کرنا۔عزیمت اورقبول کر لینا رخصت ہے۔2۔جہاں تک ہوسکے۔نبی کریمﷺ کی سنت کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے جیسے کہ خبیب بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبل از شہادت زیر ناف کی صفائی کا اہتمام کیا ۔3۔نماز ہی وہ بہترین عمل ہے۔ جس کے زریعے سے بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتاہے۔ااور قتل کیے جانے سے پہلے نماز پڑھنا سب سے پہلے جناب خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے شروع کیاہے۔4۔حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ بدر میں حارث بن عامرکو قتل کیاتھا۔حارث کے بیٹوں نے حضرت خبیب کوشہید کرکے اپنی آتش انتقام کوبجھانے کا اہتمام کیا۔حالانکہ جنگ میں مدمقابل حریف کو قتل کرنا اورچیز ہے۔ لیکن حالت امن میں اس کا بدلہ لینا کسی بھی لہاظ سے صحیح نہیں ہے۔اور کوئی بھی مذہب اس کا قائل نہیں ہے۔