Book - حدیث 2659

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي الْخُيَلَاءِ فِي الْحَرْبِ حسن حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: >مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ, فَأَمَّا الَّتِي يُحِبُّهَا اللَّهُ, فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُهَا اللَّهُ, فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يُحِبُّ اللَّهُ, فَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ نَفْسَهُ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَاخْتِيَالُهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ, فَاخْتِيَالُهُ فِي الْبَغْيِ<. قَالَ مُوسَى: >وَالْفَخْرِ<.

ترجمہ Book - حدیث 2659

کتاب: جہاد کے مسائل باب: دوران جنگ غرور و تکبر کا اظہار مباح ہے سیدنا جابر بن عتیک ؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے ” غیرت کے کچھ انداز اللہ تعالیٰ کو محبوب اور کچھ ناپسند ہیں ، اللہ عزوجل کی پسندیدہ غیرت وہ ہے جو شبہ کی بنا پر ہو ، مگر ایسی غیرت جو بغیر کسی شبہ کے ہو ، اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے ۔ اسی طرح بڑائی کا اظہار بھی کچھ ایسا ہے جو اللہ کو ناپسند ہے اور کچھ پسندیدہ ہے ۔ پسندیدہ بڑائی کا اظہار وہ ہے جو قتال کے وقت مجاہد اپنے متعلق کرتا ہے یا صدقہ کرتے وقت ہو ، اور بڑائی کا اظہار جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے وہ ہے جو ظلم اور تعدی میں ہو ۔ “ موسیٰ بن اسمٰعیل ( شیخ ابوداؤد ؓ ) نے ( ناپسندیدہ بڑائی کے اظہار میں ) ” نسب میں فخر “ کا بھی ذکر کیا ۔ شبہ کی بنا پر غیرت اس طرح کا مثلا انسان کسی ایسے شخص کو دیکھے جو غیر محرم ہوتےہوئے اس کی بیوی یا بیٹی وغیر ہ کے ساتھ آزادانہ میل جول بڑھاتاہے۔اور ہنسی مذاق کرتاہے۔اس حال میں غیرت کا اظہار مطلوب اور اللہ کو محبوب ہے۔اور بغیر کسی شبہ کے غیرت مثلا کوئی کسی کی ماں یا بہن سے عقد شرعی کرنا چاہے تو اس پر غیرت کھانے کے کوئی معنی نہیں کیونکہ یہ عمل عین شریعت کا مطلوب ہے۔ بڑائی او ر تکبر کا اظہار کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی ہیبت بڑھانے کےلئے مطلوب و محبوب ہے۔یوں کہ انسان انتہائی اعتماد وثبات سے کفار پر حملہ آور ہوا اور اس کی چال ڈھال سے کسی کمزوری یا مرعوبیت کا ظہار نہ ہو۔اور صدقہ دینے میں بڑائی یہ ہے کہ خوش دلی سے دے۔اس عمل کو اللہ کا انعام سمجھے اور جو دے اسے کم سمجھے اور فقروفاقہ کا اندیشہ نہ رکھتا ہو۔