Book - حدیث 2650

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي حُكْمِ الْجَاسُوسِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو حَدَّثَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرُ وَالْمِقْدَادُ، فَقَالَ: >انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً، مَعَهَا كِتَابٌ ،فَخُذُوهُ مِنْهَا<. فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، فَقُلْنَا: هَلُمِّي الْكِتَابَ! قَالَتْ: مَا عِنْدِي مِنْ كِتَابٍ، فَقُلْتُ: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ، أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: >مَا هَذَا يَا حَاطِبُ؟<، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ، فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَإِنَّ قُرَيْشًا لَهُمْ بِهَا قَرَابَاتٌ، يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا، يَحْمُونَ قَرَابَتِي بِهَا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ بِي مِنْ كُفْرٍ وَلَا ارْتِدَادٍ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >صَدَقَكُمْ<، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ >قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ!<.

ترجمہ Book - حدیث 2650

کتاب: جہاد کے مسائل باب: جو کوئی مسلمان ہوتے ہوئے مسلمانوں کی جاسوسی کرے عبیداللہ بن ابی رافع ؓ سیدنا علی بن ابی طالب ؓ کے کاتب تھے ، انہوں نے کہا : میں نے سیدنا علی ؓ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ، زبیر اور مقداد کو روانہ کیا اور فرمایا ” جاؤ حتیٰ کہ جب تم روضہ خاخ کے مقام پر پہنچو گے تو تمہیں ایک اونٹنی سوار عورت ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے ، وہ اس سے لے آؤ ۔ “ چنانچہ ہم روانہ ہوئے ہمارے گھوڑے ہمیں بڑی تیزی سے لیے جا رہے تھے حتیٰ کہ ہم مقام روضہ پر پہنچ گئے ، تو ہم نے وہاں ایک عورت پائی جو اپنی اونٹنی پر سوار تھی ۔ ہم نے اس سے کہا : لاؤ خط دے دو ۔ اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ۔ میں نے کہا : یا تو ، تو خط نکالے گی یا ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے ۔ چنانچہ اس نے اپنی چٹیا میں سے خط نکال دیا ، تو اسے لے کر ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آ گئے ۔ وہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کو لکھا گیا تھا ، اس میں ان کو رسول اللہ ﷺ کے بعض معاملات کے متعلق خبر دی گئی تھی ۔ آپ ﷺ نے پوچھا ” حاطب ! یہ کیا ہے ؟ “ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھ پر جلدی ( میں فیصلہ ) نہ کیجئیے ، دراصل میں اہل قریش میں نو آباد تھا ، خاص قبیلہ قریش سے میرا تعلق نہیں تھا جبکہ ( مہاجرین ) قریش کے وہاں مکہ میں دیگر تعلق دار موجود ہیں جو ان کے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہیں لہٰذا میں نے چاہا کہ مجھے ان کے ساتھ تعلق داری کا کوئی واسطہ حاصل نہیں ہے ، تو میں ان پر ایک احسان کر دوں جس کی بنا پر وہ میرے قرابت داروں کا خیال رکھیں ۔ اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! مجھ میں کوئی کفر نہیں ہے اور نہ کوئی ارتداد ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” سچ کہا ہے ۔ “ سیدنا عمر ؓ نے کہا : مجھے چھوڑیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” یہ بدر میں شریک ہو چکا ہے اور تمہیں کیا خبر ، شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر فرمائی ہو اور کہا ہے کہ جو چاہے کرو ، تحقیق میں نے تمہیں بخش دیا ہے ۔ “ 1۔رسول اللہ ﷺ کا غیب کی خبریں دینا وحی کی بنا پر ہوتا تھا۔2۔مجاہد کو تلوار کا دھنی ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر تدابیر سے بھی کام لیناچاہیے۔جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دھمکی سے کام نکالا۔3۔صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کی امانت قابل قدر ہے کہ انہوں نے اپنے طور پر خط پڑھنے کی کوشش نہیں کی۔5۔بعض صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین تمام تر رفعت شان کے باوجود بشری خطائوں سے مبرا نہ تھے اور ان سے ان کے عادل ہونے پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔جیسے کہ حضرت حاطبرضی اللہ تعالیٰ عنہ 6۔جب کوئی شخص کسی ناجائز کام کا مرتکب ہوا ہو وہ اس کے جواز میں اپنے فہم (تاویل)کاسہارالے تو اس کا عذر ایک حد تک قبول کیا جائے گا۔بشرط یہ کہ اس کے فہم (تاویل)کی گنجائش نکلتی ہو۔7۔کوئی مسلمان ہوتے ہوئے اپنے مسلمانوں کے راز افشاں کرے۔اور ان کی جاسوسی کرے۔تو یہ حرام کام ہے۔اور انتہائی کبیرہ گناہ مگر اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔لیکن تعزیر ضرور ہوگی۔امام شافعی فرماتے ہیں۔کہ اگر کوئی مسلمان باوقار ہو اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کی تہمت سے مہتم نہ ہو تو اس کو معاف بھی کیا جاسکتا ہے۔8۔کسی واضح عمل کی بنا پر اگر کوئی شخص کسی کو کفر یانفاق کی طرف منسوب کردے تو اس پرکوئی سزا نہیں۔جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا۔9۔اہل بدر کو دیگر صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کے مقابلے میں ایک ممتاز مرتبہ حاصل تھا۔حضرت حاطبرضی اللہ تعالیٰ عنہ انہی میں سے تھے۔اور نفاق کی تہمت سے بری تھے۔2۔جوجی چاہے کرو۔کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ شرعی پابندیوں سے آذاد قرار دیئے گئے۔ بلکہ یہ ان کی مدح ثناء تھی۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرفسے ضمانت تھی۔ کہ یہ لوگ اللہ کی خاص حفاظت میں ہیں۔ان میں سے کوئی ایسا کام مصادر نہ ہوگا۔ جوشریعت کے صریح منافی ہو۔واللہ اعلم۔