Book - حدیث 2631

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي لِقَاءَ الْعَدُوِّ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ -مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ مَعْمَرٍ، وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ-، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ، قَالَ: >يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ تَعَالَى الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ<. ثُمَّ قَالَ: >اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِي السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ<.

ترجمہ Book - حدیث 2631

کتاب: جہاد کے مسائل باب: دشمن سے دو بدو ہونے کی تمنا کرنا پسندیدہ نہیں سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ؓ نے سالم ابوالنضر کو لکھا ، جبکہ وہ حروری لوگوں کی طرف نکلے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک غزوے میں ، جب وہ دشمن سے ٹکرائے تھے ، فرمایا تھا : ” لوگو ! دشمن سے ملنے کی تمنا مت کرو ، اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو ، مگر جب اس سے مڈبھیڑ ہو جائے تو پھر صبر و ثبات سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ۔ “ پھر ( یہ ) دعا فرمائی : « اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم» ” اے اللہ ! کتاب کو نازل کرنے والے ! بادلوں کو چلانے والے ! لشکروں کو پسپا کرنے والے ! انہیں پسپا کر دے اور ہمیں ان پر نصرت اور غلبہ عطا فر ۔ “ 1۔جنگ کوئی عام کھیل نہیں جب اس سے واسطہ پڑتا ہے۔تو حقیقت کھلتی ہے۔کہ انسان ایمان اور بہادری کے کس معیار پر ہے۔ اس لئے آرزو یہ ہونی چاہیے کہ یہ موقع ہی نہ آئےتو اچھا ہے۔مگر جب دوبدو ہونا لازمی ٹھہرے۔تواللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی قوت وبسالت کا بھر پور اظہار کرنا چاہیے۔شہادت کی تمنا بھی اسی طرح ہے۔کہ موقع آنے پر انسان سردھڑ کی بازی لگانے سے دریغ نہ کرے۔ مگر بے موقع یا بے مقصد جان دے دینا تو کوئی معنی نہیں رکھتا۔2۔ حروری خارجیوں کاایک نام ہے۔ کیونکہ یہ لوگ صفین سے واپس آئے۔توحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے الگ ہوکر کوفہ سے باہر مضافات میں حرورا نام کے ایک مقام پرجمع ہوگئے۔اور یہی ان کا پہلا مرکز تھا۔ اس کی طرف نسبت سے یہ لوگ حروری کہلائے۔