Book - حدیث 262

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي الْحَائِضِ لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ صحیح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ لَقَدْ >كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِالْقَضَاءِ.

ترجمہ Book - حدیث 262

کتاب: طہارت کے مسائل باب: حائضہ ایام حیض کی نمازوں کی قضا نہ کرے سیدہ معاذہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ ؓا سے سوال کیا کہ آیا حائضہ ( اپنے ایام حیض کی ) نمازوں کی قضاء دے ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تو حروری ہے ؟ بلاشبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے حیض سے ہوتی تھیں تو ہم کسی نماز کی قضاء نہیں دیتی تھیں اور نہ ہمیں اس کا حکم ہی دیا جاتا تھا ۔ خوارج کو حر وراء مقام کی طرف نسبت کرتے ہوئے ’’حروری‘‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کے بعد سب سے پہلا اجتماع مقام حروراء میں کیا تھا جو کوفہ کے قریب تھا ۔ وہ حائضہ کے لیے ایام حیض کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کرنے کے قائل بھی تھے ۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ جو کچھ قرآن سے ثابت ہووہی قابل عمل ہے اور جو امور زائدہ احادیث میں آئے ہیں ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے اور مرتکب کبیرہ کافر ہے ۔