Book - حدیث 2612

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ، أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ: >إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، -أَوْ خِلَالٍ- فَأَيَّتُهَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمُ: ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ, فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يُجْرَى عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ أَجَابُوا، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ تَعَالَى وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ تَعَالَى فَلَا تُنْزِلْهُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَحْكُمُ اللَّهُ فِيهِمْ، وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ -بَعْدُ- مَا شِئْتُمْ<. قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ عَلْقَمَةُ فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ فَقَالَ، حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ. قَالَ: قَالَ أَبو دَاود: هُوَ ابْنُ هَيْصَمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ.

ترجمہ Book - حدیث 2612

کتاب: جہاد کے مسائل باب: ( قتال کے موقع پر ) کفار کو اسلام کی دعوت دینا سیدنا سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ( کسی شخص کو ) کسی دستے یا کسی بڑے لشکر کا امیر بنا کر روانہ کرتے تو اسے خود اپنی ذات میں اﷲ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اپنی معیت میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے اور فرماتے ” جب تم اپنے مشرک دشمن کے مقابلے پر آؤ تو انہیں تین باتوں کی دعوت دو ‘ وہ جسے بھی اختیار کرنا چاہیں کر لیں اور پھر جو وہ اختیار کر لیں اسے قبول کر لینا اور اپنے ہاتھ کو ان سے روک لینا ۔ ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی دعوت دینا ، اگر وہ اسے قبول کر لیں تو تم بھی ان سے قبول کر لو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو ۔ پھر انہیں دعوت دو کہ وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر دارلمہاجرین میں منتقل ہو جائیں اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے یہ امر قبول کر لیا تو ان کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں اور ان پر وہ سب کچھ واجب ہو گا جو ان مہاجرین پر واجب ہے ‘ اگر وہ منتقل ہونا قبول نہ کریں اور اپنے علاقوں ہی میں رہنا چاہیں ‘ تو انہیں بتانا کہ وہ بدوی مسلمانوں کی طرح ہوں گے ‘ ان پر اﷲ کا حکم اسی طرح نافذ ہو گا جیسے کہ دیگر مومنین پر نافذ ہوتا ہے ‘ ( مال ) فے اور غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا ‘ سوائے اس کے کہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں ۔ ( 2 ) پس اگر وہ لوگ اسلام قبول کرنے سے انکاری ہوں تو انہیں کہنا کہ جزیہ دینا قبول کریں اگر وہ اس پر راضی ہو جائیں تو اسے قبول کر لینا اور اپنا ہاتھ ان سے روک لینا ۔ ( 3 ) اگر وہ جزیہ دینے پر راضی نہ ہوں تو اﷲ کی مدد طلب کرتے ہوئے ان سے قتال کرنا ۔ اور جب تم کسی قلعے والوں کا محاصرہ کر لو اور پھر وہ تم سے یہ چاہیں کہ ان کو ہتھیار ڈالنے دو ‘ اس شرط پر کہ ان پر اﷲ کا حکم نافذ ہو تو یہ بات قبول نہ کرنا کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں اﷲ کا فیصلہ کیا ہے ‘ لیکن انہیں اپنی شرطوں اور فیصلے کے مطابق ہتھیار ڈالنے کی اجازت دو اور پھر جو چاہو ان کے متعلق فیصلہ کرو ۔ “ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ علقمہ نے کہا : میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے ذکر کی تو انہوں نے کہا : مجھے مسلم نے بیان کیا ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : اس ( مسلم ) سے مراد مسلم بن ہیصم ہے ۔ اس نے نعمان بن مقرن ؓ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا جیسے کہ سیلمان بن بریدہ نے بیان کیا ہے ۔ یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا۔اوراب بھی ان قوموںسے متعلق ہے۔ جن کو اسلام کی دعوت واضح طور سے نہ پہنچی ہو۔(صحیح البخاری۔العتق۔حدیث 2541 وصحیح مسلم الجہاد حدیث 1730 وسنن ابی دائود۔حدیث 2633)2۔دین اسلا م کی دوسرے دینوں سے آویزش صرف اور صرف اللہ کی مخلوق تک اس کا کلمہ پہنچانے اور غالب کرنے کے لئے ہے۔اس میں محض ملکوں کو فتح کرنا یا لوگوں کو اپنے تابع کرنا نہیں ہے۔3۔امیر مجاہدین(اور اس طرح دیگر مفتیان اور مجتہدین) کا فیصلہ بالعموم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دیئے ہوئے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔اس کے باوجود ان میں سے اس کے حق یا خطا ہونے کا احتمال رہتاہے۔(ان اجتہادی امور میں) عین یہی دعویٰ کرنا کہ یہی اللہ کا فیصلہ ہے۔بالکل غلط ہے۔جبکہ رسول اللہ ﷺ کی زبان سے صادر ہونے والے فیصلے اور احکام عین اللہ کے فیصلے ہوتے تھے۔ اور عین شریعت ہوتے تھے کیونکہ (وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ)(انجم ۔3۔4) آپ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے مگر جو اللہ کی وحی ہوتی ہے اور اجتہادی امور میں جہاں کہیں کوئی خطا ہوتی بھی تو فورا ً اس کی اصلاح ہوجاتی تھی نبی کریم ﷺکے بعد کسی بھی امتی کو یہ مقام حاصل نہیں ہے۔