Book - حدیث 2598

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا سَافَرَ حسن صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ، قَالَ: >اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ، اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ<.

ترجمہ Book - حدیث 2598

کتاب: جہاد کے مسائل باب: آدمی سفر کے وقت کون سی دعا پڑھے ؟ سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے تھے «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل ، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال ، اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر» ” اے اﷲ ! سفر میں تو ہی ہمارا رفیق اور اہل میں خلیفہ ہے ۔ ( ان کی حفاظت کرنے والا ہے ) اے اﷲ ! سفر کی مشقت اور شدت سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس بات سے کہ غم و اندوہ کے ساتھ واپس لوٹوں اور اپنے اہل اور مال میں کوئی برا منظر دیکھوں ، اے اﷲ ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو ہمارے لیے آسان فر دے ۔ “ سفر مختلف مقاصد کے لئے ہوتا ہے۔مگر سب سے اہم اور مبارک سفر جہاد کا ہے۔