Book - حدیث 257

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنْ الْمَاءِ ضعیف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ- فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ-، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ يَصُبُّ عَلَيَّ الْمَاءَ، ثُمَّ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ يَصُبُّهُ عَلَيْهِ.

ترجمہ Book - حدیث 257

کتاب: طہارت کے مسائل باب: وہ پانی جو مرد اور عورت کے مابین بہے...؟ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ جو پانی مرد و عورت کے درمیان بہتا ہے ، اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ پانی کا ایک چلو لیتے ، ( اور ) مجھ پر پانی ڈالتے ( یا پانی ، مذی یا منی پر ڈالتے ) پھر دوسرا چلو لیتے اور اس کو اپنے اوپر ڈال لیتے ( یا مزید اس کے اوپر بہا دیتے ) ۔ یہ روایت ضعیف ہے تاہم مفہوم سمجھ لینا چاہیے ۔ اس میں جملہ [یاخذ کفا من ماء یصب علی الماء] کے لفظ [علی الماء] کودو طرح پڑھا گیا ہے ۔ (الف) [علی الماء ]یعنی علیٰ حرف جز اور ی ضمیر متکلم مجرور اور الماء منصوب یصب سے مفعول بہ ۔ اس صورت میں پانی سے مراد وہ پانی ہے جو مردعورت کے درمیان (غسل کے دوران میں) بہتا اور ٹب میں گر جاتا ہے اس سے رسول اللہ ﷺ پانی کا ایک چلو لیتے اور مجھ پر ڈالتے پھر دوسرا چلو لیتے اور اپنے اوپر ڈال لیتے ۔ دوسری صورت (ب) [علی الماء] ہے حرف جر کے ساتھ اس صورت میں الماء سے مراد مذی یا منی ہے ۔ یعنی ایک چلو پانی لے کر (یعنی مذی یا منی) پر ڈالتے اور پھر دوسرا چلو لیتے اور مزید نظافت کے لیے اس پر بہا دیتے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنبی کے ہاتھ سے آنے والا پانی پاک ہے ، اسی طرح اس سے اگر کوئی چھینٹے وغیرہ پڑیں ، تو کوئی حرج نہیں۔