Book - حدیث 2561

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الْبَهِيمَةِ صحیح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ لَعْنَةً، فَقَالَ: >مَا هَذِهِ؟<، قَالُوا: هَذِهِ فُلَانَةُ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >ضَعُوا عَنْهَا, فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ<. فَوَضَعُوا عَنْهَا. قَالَ عِمْرَانُ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةٌ وَرْقَاءُ.

ترجمہ Book - حدیث 2561

کتاب: جہاد کے مسائل باب: جانور کو لعنت کرنے کی ممانعت سیدنا عمران بن حصین ؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے ، پس آپ ﷺ نے ( کسی سے ) لعنت کرنے کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے پوچھا : ” یہ کیا ہے ؟ “ صحابہ نے کہا : فلاں عورت ہے جس نے اپنی سواری کو لعنت کی ہے ۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اس سے ( کجاوہ اور سامان ) اتار دو ۔ بلاشبہ یہ اب ملعونہ ہے ۔ “ چنانچہ صحابہ نے اس سے ( سامان وغیرہ ) اتار دیا ۔ عمران کہتے ہیں : گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ سیاہی مائل اونٹنی تھی ۔ لعنت کے لغوی معنی ہیں۔اللہ کی پھنکار اور اس کی رحمت سے دوری اور انتہائی یہ بری خصلت ہے کہ انسان ایک چیز سے فائدہ بھی اٹھائے۔اور پھر اس کے متعلق لعنت کا لفظ بھی استعمال کرے۔نبی کریم ﷺنے غالبا بطور زجر وتوبیخ کے اس جانور کو اس کے سوار سے آذاد کروادیا تھا۔تاکہ آئندہ ک ےلئے کوئی اس طرح سے نہ بولے لوگوں کا آپس میں یہ لفظ استعمال کرنا اور بھی قبیح ہے۔