Book - حدیث 2541

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِيمَنْ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى الشَّهَادَةَ صحیح حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مَرْوَانَ وَابْنُ الْمُصَفَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ يُرَدُّ إِلَى مَكْحُولٍ إِلَى مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ نَفْسِهِ صَادِقًا، ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ, فَإِنَّ لَهُ أَجْرَ شَهِيدٍ، زَادَ ابْنُ الْمُصَفَّى مِنْ هُنَا وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ, لَوْنُهَا لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ، وَرِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ، وَمَنْ خَرَجَ بِهِ خُرَاجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهَ, فَإِنَّ عَلَيْهِ طَابَعَ الشُّهَدَاءِ<.

ترجمہ Book - حدیث 2541

کتاب: جہاد کے مسائل باب: شہادت کی دعا کی فضیلت سیدنا معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ’’ اگر کسی نے اونٹنی کو دوبارہ دوہنے کے وقفہ کے برابر بھی قتال کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہے ‘ اور جس نے اللہ سے سچے دل سے قتل فی سبیل اللہ کی دعا مانگی پھر فوت ہو گیا یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لیے شہید کا ثواب ہے ۔ ‘‘ ابن المصفی نے یہاں اضافہ کیا ’’ اور جسے ( دشمن کی طرف سے ) اللہ کی راہ میں کوئی زخم آ گیا یا کوئی چوٹ لگ گئی تو قیامت کے دن وہ زخم اسی طرح ( تازہ ) اور بڑا ہو گا جیسے کہ وہ تھا ‘ اس کے خون کا رنگ زعفران کا اور خوشبو کستوری کی ہو گی ‘ اور جسے اللہ کی راہ میں کوئی پھوڑا نکل آیا تو اس پر شہیدوں کے جیسی مہر ہو گی ۔ ‘‘ 1۔اونٹنی ایک بار دوہنے کے بعد چند منٹ کے لئے وقفہ دیاجا تا ہے۔اور پھردوبارہ دوہتے ہیں۔ اس درمیانی وقفے کو (فواق ) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔2۔اخلاص نیت کی وجہ سے انسان بہت بڑے درجات حاصل کرلیتا ہے۔ خواہ بالفعل عمل کر کے اس مقام تک نہ بھی پہنچ سکے۔