Book - حدیث 2526

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي أَخْذِ الْجَعَائِلِ صحیح حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ح، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنِ ابْنِ شُفَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >لِلْغَازِي أَجْرُهُ، وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهُ، وَأَجْرُ الْغَازِي<.

ترجمہ Book - حدیث 2526

کتاب: جہاد کے مسائل باب: جہاد میں مادی بدلہ لے لینے کی رخصت سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جہاد کرنے والے کو اپنا ثواب ملتا ہے اور جو کوئی کسی مجاہد کو تعاون دیتا ہے اسے اپنا ثواب ملتا ہے اور ساتھ ہی جہاد کرنے والے مجاہد کا بھی ۔ ‘‘ ( دگنا ثواب ملتا ہے ۔ ) یہ اور اس قسم کی احادیث جن میں جہاد قتال کے لئے مادی تعاون لینے کی رخصت ہے۔ان کا تعلق ان مخلصین مگر مفلوک الحال اور فقیر لوگوں سے ہے۔جو اسباب وزاد جہاد نہ ہونے کے باعث جہاد سے پیچھے رہیں۔ان کا جہاد بربنائے اخلاص وتقویٰ اعلائے کلمۃ اللہ کےلئے ہی ہوتاہے۔تو ایسے لوگوں سے تعاون کرنا باعث اجر وثواب ہے بلکہ تعاون دینے والوں کےلئے دوہرا جر ہے۔جیسے کہ حکومت کے تنخواہ دار فوجی اگر یہ اخلاص سے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطرلڑیں۔ تو اجر وغنیمت دونوں سے بہر ور ہوتے ہیں۔ورنہ وہی ہے جو ان کی نیت ہوئی اور اسی پر قیاس ہیں وہ علماء مدرسین اور خطباء وغیرہ جو شرعی علوم کی اشاعت میں مشغول ہیں۔اگر ان کی نیت صاف ہو تو فبھا ونعمت انھیں تنخواہیں اور وظیفے لینے جائز ہیں ورنہ انہیں انجام کی فکر کرنی چاہیے۔