Book - حدیث 2522

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي الشَّهِيدِ يُشَفَّعُ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي نِمْرَانُ بْنُ عُتْبَةَ الذِّمَارِيُّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ وَنَحْنُ أَيْتَامٌ، فَقَالَتْ: أَبْشِرُوا, فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >يُشَفَّعُ الشَّهِيدُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ<. قَالَ أَبو دَاود: صَوَابُهُ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ.

ترجمہ Book - حدیث 2522

کتاب: جہاد کے مسائل باب: شہید سفارش کرے گا جناب نمران بن عتبہ ذماری بیان کرتے ہیں کہ ہم ام الدرداء ( صغر ) کے ہاں گئے اور ہم یتیم تھے تو انہوں نے کہا : تمہیں بشارت ہو ! میں نے ( اپنے شوہر ) ابوالدرداء ؓ سے سنا ، وہ کہتے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” شہید کی سفارش اپنے گھرانے کے ستر افراد کے حق میں قبول کی جائے گی ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس سند میں ( ولید بن رباح الذماری صحیح نہیں بلکہ ) رباح بن ولید صحیح ہے ۔ یہ روایت شیخ البانی کے نزدیک صحیح ہے۔اس سفارش کا مستحق بننے کےلئے عقیدہ توحید سنت کاحامل ہونا انتہائی ضروری ہے۔کیونکہ مشرک کےلئے قطعا ً بخشش نہیں ہے۔اور جنت اس کے لئے حرام ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے۔ ( إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ)(النساء ۔48) بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں فرمائے گا۔کہ اس کے ساتھ کسی کوشریک بنایا جائے علاوہ ازیں جسے چایے گا معاف فرمادے گا۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا۔ (اِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّار)(المائدہ۔72) بلاشبہ جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بلا شبہ اللہ نے اس پر جنت کو حرام کردیا ہے اور اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔