Book - حدیث 2521

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَتْنَا حَسْنَاءُ بِنْتُ مُعَاوِيَةَ الصَّرِيمِيَّةُ، قَالَتْ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: >النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْوَئِيدُ فِي الْجَنَّةِ<.

ترجمہ Book - حدیث 2521

کتاب: جہاد کے مسائل باب: شہادت کی فضیلت حسناء بنت معاویہ صریمیہ بیان کرتی ہیں کہ ہم سے ہمارے چچا ( اسلم بن سلیم ؓ ) نے بیان کیا ، انہوں نے کہا : میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ جنت میں کون ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نبی جنت میں ہوں گے ، شہید جنت میں جائے گا ، چھوٹا بچہ جنت میں جائے گا اور زندہ دفن کیا گیا بچہ جنت میں جائے گا ۔ “ 1۔ چھوٹے بچے جو نابالغی کی عمر میں فوت ہوگئے ہوں۔اس میں وہ بھی شامل ہیں جن کی پیدائش نامکمل رہی اور ساقط ہوگئے ہوں۔البتہ کافروں اور مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ جب کفار کے بچے سن تمیز سے پہلے فوت ہوجایئں۔اور ان کے والد کافر ہوں۔تو دنیا میں ان کا حکم کافروں کا ہوگا کہ انہیں غسل دیا جائے گا۔ نہ کفن دیا جائےگا نہ جنازہ پڑھا جائے گا۔اور نہ انہیں مسلمانوں کے ساتھ دفن کیا جائےگا۔کیونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ کافر ہی ہیں۔ باقی رہا آخرت میں ان کا حال تو یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اگر وہ بڑے ہوتے تودنیا میں کس طرح کے عمل کرتے۔؟ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ سے جب مشرکوں کے بچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا! اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے (صحیح البخاری القدر باب اللہ اعلم بما کانو عاملین حدیث 6597) بعض اہل علم کا قول ہےکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا علم قیامت کے دن ظاہر ہوگا۔ اور ان کا بھی اہل فترت کی طرح امتھان ہوگا۔ اگر انہوں نے اللہ کے حکم کی فرمانبرداری کی تو جنت میں داخل ہوں گے۔اوراگر نافرمانی کی تو جہنم رسید ہو ں گے۔صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔مثلا کفار اور مشرکین کے بچے ان کا بھی امتحان ہوگا۔کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا)(بنی اسرائیل 17/15) اور جب تک ہم پیغمبر ؑ نہ بھیجیں ہم عذاب نہیں دیا کرتے اہل فترت کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے ۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے اسی کو اختیار کیا ہے۔(تفصیل کےلئے ملاحظہ ہو۔فتاویٰ ابن تیمیہ 24/372۔373)2۔عرب کے بعض قبائل عار کی بناء پراپنی بیٹیوں کودفن کردیتے تھے۔ اور یہ بھی آتا ہے کہ بعض فقر فاقہ کی صورت میں بیٹوں کے ساتھ بھی ایسے ہی کرتے تھے۔قرآن مجید نے اس کا ذکر یوں کیا ہے۔ ( وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ﴿٨﴾ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ)(التکویر۔8۔9) جب زندہ درگور کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔کہ کس گناہ کی پاداش میں اسے قتل کیا گیا؟