Book - حدیث 2514

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي الرَّمْيِ صحیح حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: >{وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ}[الأنفال: 60], أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ, أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ<.

ترجمہ Book - حدیث 2514

کتاب: جہاد کے مسائل باب: تیراندازی کی فضیلت سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو برسر منبر یہ کہتے ہوئے سنا : ( آپ نے سورۃ الانفال کی آیت 60 پڑھی ) ” ان کفار کے مقابلے میں جس قدر ہو سکے قوت بہم پہنچاؤ ۔ “ ( اس کی تشریح میں آپ نے فرمایا ) ” خبردار ! تیر اندازی ہی قوت ہے ۔ خبردار ! تیر اندازی ہی قوت ہے ۔ خبردار ! تیر اندازی ہی قوت ہے ۔ “ (رمی)کے معنی ہیں۔کسی چیز کو پھینک کر مارنا تیر اندزی کا یہ بیان بطور رمز کے ہے ورنہ مطلوب یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان مسلمان کے لئے رائج الوقت اسلحہ کے استعمال کی تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور چلا کرمارنے والے اسلحے ہی سب سے اہم ترین ہیں۔