Book - حدیث 2512

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ}[البقرة: 195] صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ وَابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَعَلَى الْجَمَاعَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَالرُّومُ مُلْصِقُو ظُهُورِهِمْ بِحَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَحَمَلَ رَجُلٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَقَالَ النَّاسُ: مَهْ مَهْ! لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يُلْقِي بِيَدَيْهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ! فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، لَمَّا نَصَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ، وَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ، قُلْنَا: هَلُمَّ نُقِيمُ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُهَا! فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ}[البقرة: 195]، فَالْإِلْقَاءُ بِالْأَيْدِي إِلَى التَّهْلُكَةِ أَنْ نُقِيمَ فِي أَمْوَالِنَا، وَنُصْلِحَهَا، وَنَدَعَ الْجِهَادَ. قَالَ أَبُو عِمْرَانَ: فَلَمْ يَزَلْ أَبُو أَيُّوبَ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ.

ترجمہ Book - حدیث 2512

کتاب: جہاد کے مسائل باب: آیت کریمہ «ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ” اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو “ کی تفسیر جناب اسلم‘ابو عمران بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ منورہ سے جہاد کے لیے روانہ ہوئے ، ہم قسطنطنیہ ( استنبول ) جانا چاہتے تھے اور جناب عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید ہمارے امیر جماعت تھے ۔ رومی لوگ اپنی پشت فصیل شہر کی طرف کیے ہمارے مدمقابل تھے ۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے دشمن پر ہلہ بول دیا تو لوگوں نے کہا : رکو ، ٹھہرو ! «لا إله إلا الله» یہ شخص اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے تو سیدنا ابوایوب انصاری ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت ہم انصاریوں ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ جب اللہ ذوالجلال نے اپنے نبی کریم ﷺ کی نصرت فرمائی اور اسلام کو غالب کر دیا تو ہم نے کہا : چلو اب ذرا اپنے اموال و جائیداد میں رک جائیں اور ان کو درست کر لیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ” اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ۔ “ ہلاکت میں ڈالنا یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں میں رک جائیں ، ان کی اصلاح میں مشغول ہو جائیں اور جہاد چھوڑ دیں ۔ ابو عمران نے کہا : چنانچہ ابوایوب انصاری ؓ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے ، حتیٰ کہ قسطنطنیہ ( استنبول ) ہی میں دفن ہوئے ۔ 1۔قرآن مجید کو صحیح احادیث میں وارد شان نزول کی روشنی میں سمجھنا چاہیے اس سے صرف نظر کرنا قطعاً صحیح نہیں ہے۔مگر ہر ہر آیت کا شان نزول ثابت نہیں ہے۔2۔مندرجہ بالا تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ مشاغل دنیا میں انہماک اور جہاد سے اعراض ہی باعث ہلاکت ہے خواہ افراد اس کے مرتکب ہوں یا قومیں۔