Book - حدیث 249

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ ضعیف حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا، فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ. قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي – ثَلَاثًا -، وَكَانَ يَجُزُّ شَعْرَهُ.

ترجمہ Book - حدیث 249

کتاب: طہارت کے مسائل باب: غسل جنابت کا بیان سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جس نے جنابت میں ایک بال کی جگہ بھی چھوڑ دی اور اسے نہ دھویا تو اس کے ساتھ آگ میں ایسے اور ایسے کیا جائے گا ( یعنی عذاب دیا جائے گا ) ۔ “ سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں : میں اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن بن گیا ہوں ۔ میں اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن بن گیا ہوں ۔ میں اسی وجہ سے اپنے سر کا دشمن بن گیا ہوں ۔ آپ اپنے بال منڈائے رکھتے تھے ۔ مذکورہ روایات کےمجموعےسےواضح ہےکہ انسان غسل جنابت میں اہتمام واحتیاط سےاپنےپورےجسم کےتمام حصوں تک پانی پہنچائے۔ کسی بال برابرجگہ کاخشک رہ جانابھی باعث عذاب ہےالبتہ عورتوں کواپنی مینڈھیاں نہ کھولنےکی شرعاًرعایت ہے‘جیسےکہ آگےآرہاہے۔