Book - حدیث 2485

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي ثَوَابِ الْجِهَادِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ: أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا؟ قَالَ: >رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ يَعْبُدُ اللَّهَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، دْ كُفِيَ النَّاسُ شَرَّهُ<.

ترجمہ Book - حدیث 2485

کتاب: جہاد کے مسائل باب: جہاد کا ثواب سیدنا ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ مومنوں میں سے کون سا آدمی کامل ایمان والا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہو ، اور وہ آدمی جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت میں مشغول ہو اور لوگوں کو اس کی برائی نہ پہنچتی ہو ۔ “ جہاد کے بعد مجاہدے کی فضیلت ہے۔اور پہاڑ کی گھاٹی میں عبادت سے مقصود یہ ہے کہ آدمی دکھلاوے اور سنانے کی کیفیات سے بہت بعید ہو۔یا دوران جہاد میں اپنی زمہ داریاں ادا کرتے ہوئے عبادت بھی کرتا ہو یہ بیان ہے کہ جب معاشرے میں دین وایمان خطرے میں ہو او ر صحبت صالح میسر نہ ہو تو ان سے علیحدہ ہوجانے میں کوئی حرج نہیں۔