Book - حدیث 2483

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ فِي سُكْنَى الشَّامِ صحیح حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ مَعْدَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي قُتَيْلَةَ عَنِ ابْنِ حَوَالَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً, جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ<. قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: >عَلَيْكَ بِالشَّامِ, فَإِنَّهَا خِيرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ، يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ, فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ، وَاسْقُوا مِنْ غُدُرِكُمْ, فَإِنَّ اللَّهَ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ<.

ترجمہ Book - حدیث 2483

کتاب: جہاد کے مسائل باب: دیار شام میں سکونت اختیار کرنا سیدنا ( عبداللہ ) بن حوالہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” حالات اس طرح ہو جائیں گے کہ تم لوگ مختلف گروہوں اور لشکروں میں جمع ہو جاؤ گے ، ایک لشکر شام میں ہو گا ، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ۔ “ ابن حوالہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میرے لیے منتخب فر دیجئیے ، اگر یہ حالات پاؤں ، تو کہاں سکونت اختیار کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” شام کو اختیار کر لینا ، بلاشبہ یہ علاقہ اللہ عزوجل کا پسندیدہ ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کہ یہیں جمع فر دے گا لیکن اگر تم لوگ اس سے انکار کرو ، تو پھر اپنے یمن کو اختیار کرنا اور اپنے تالابوں کا پانی پینا ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کے متعلق ( فتنوں سے حفاظت کی ) ضمانت دی ہے ۔ “ علاقہ شام مبارک علاقوں میں سے ہے۔اللہ عزوجل نے بیت المقدس کے علاوہ اسے اپنی ظاہری باطنی خیرات وبرکات کا مرکز بنایا ہے علاقے کی زر خیزی وشادابی تو واضح ہے اور باطنی طور پر یہ علاقہ انبیاء کی سرزمین رہا ہے لوگ بالعموم فطری طور پر خیر چاہنے والے اور دین حق کے پیرو ہیں۔آخر میں حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول اسی علاقہ میں ہوگا۔اس وجہ سے اس علاقے کی طرف ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے۔ہمیں جو سیاسی اور غیر سیاسی فتنے نظر آتے ہیں۔یہ سب وقتی چیز ہے۔اور اس سے کوئی بھی علاقہ خالی نہیں ہے۔جو ان شاء اللہ وقت آنے پرختم ہوجایئں گے۔