Book - حدیث 2478

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ وَسُكْنَى الْبَدْوِ صحيح م دون جملة التلاع حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ, قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْبَدَاوَةِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ، وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لِي: >يَا عَائِشَةُ! ارْفُقِي, فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ<.

ترجمہ Book - حدیث 2478

کتاب: جہاد کے مسائل باب: ہجرت کا بیان اور دیہات میں سکونت مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے پوچھا کہ بستی اور دیہات میں سکونت اختیار کرنا کیسا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ( کبھی کبھار ) ان ٹیلوں اور میدانوں کی طرف چلے جایا کرتے تھے ۔ آپ ﷺ نے ایک بار باہر جانے کا ارادہ فرمایا اور میری طرف صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹنی بھیجی ( کہ سواری کے دوران میں اس پر کچھ سختی کرنی پڑی ) تو آپ ﷺ نے فرمایا ” عائشہ ! نرم خوئی سے کام لو ، نرمی جس چیز میں بھی آ جائے وہ مزین ہو جاتی ہے اور جس سے نکال لی جائے ، وہ عیب دار ہو جاتی ہے ۔“ 1۔اس روایت کا پہلا حصہ (ھذہ التلاع)صحیح ثابت نہیں۔(علامہ البانی)تاہم تدبر فی الانفس کی نیت سے آدمی کس وقت عزلت وتنہائی اختیار کرلے تو مفید ہے۔جس کی صورت اعتکاف ہے۔نہ کہ صوفیاء کی سیاحت۔2۔جب حیوانات سے نرم خوئی ممدوح اور مطلوب ہے۔تو انسانوں سے یہ معاملہ اور بھی زیادہ باعث اجر وثواب ہے۔