Book - حدیث 2477

كِتَابُ الْجِهَادِ بَابٌ مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ وَسُكْنَى الْبَدْوِ صحیح حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ؟ فَقَالَ: >وَيْحَكَ، إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟<، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: >فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟<، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: >فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ, فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا<.

ترجمہ Book - حدیث 2477

کتاب: جہاد کے مسائل باب: ہجرت کا بیان اور دیہات میں سکونت سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہایک دیہاتی نے نبی کریم ﷺ سے ہجرت کے متعلق دریافت کیا ۔ ( مدینہ منورہ میں سکونت کے لیے بیعت کرنی چاہی ) آپ ﷺ نے فرمایا ” تم پر افسوس ! ہجرت کا معاملہ انتہائی سخت ہے ، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا ” ان کی زکوٰۃ دیتے ہو ؟ “ اس نے کہا : ہاں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ان بستیوں کے پار عمل کیے جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں کوئی کمی نہیں کرے گا ۔ “ 1۔(ھجرۃ) لغت میں چھوڑدینے کو کہتے ہیں۔اوراصطلاحا یہ ہے کہ انسان اپنےدین اور ایمان کی حفاظت کی غرض سے دارلکفر۔دارلفساد۔اوردارالمعاصی۔کوچھوڑ کردارالسلام اور دارالصلاح کی سکونت اختیار کرلے۔اور ہجرت کی جان یہ ہے کہ انسان اللہ عزوجل کے منع کردہ امور سے باز رہے۔جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔(صحیح البخاری۔الایمان حدیث 10)2۔ہجرت کے تقاضے انتہائی شدید ہیں۔یہ کوئی آسان عمل نہیں ہے۔3۔(البحار) کا لفظ عربی زبان میں بستیوں اور شہروں پر بھی بولاجاتا ہے۔4۔اعمال کی بنیاد ایمان اور اخلاص پرہے۔