Book - حدیث 2457

كِتَابُ الصَّیامِ بَابُ مَنْ رَأَى عَلَيْهِ الْقَضَاءَ ضعیف حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ، وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، فَاشْتَهَيْنَاهَا، فَأَفْطَرْنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَلَيْكُمَا, صُومَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ.

ترجمہ Book - حدیث 2457

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: نفلی روزہ توڑ لیا ہو تو اس کی قضاء کا مسئلہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے ‘ وہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے اور حفصہ ؓا کو کوئی کھانا ہدیہ بھیجا گیا جبکہ ہم نے روزہ رکھا ہوا تھا ‘ پس ہم نے روزہ توڑ لیا ۔ رسول اﷲ ﷺ تشریف لائے اور ہم نے ان سے عرض کیا : اے اﷲ کے رسول ! ہمیں ہدیہ دیا گیا تھا اور ہمارا کھانے کو دل چاہا تو ہم نے روزہ افطار کر لیا ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ” کوئی حرج نہیں ‘ اس کی بجائے ایک روزہ رکھ لینا ۔ “ ابوسعید بن الاعرابی کہتے ہیں کہ یہ روایت ثابت نہیں ہے ۔ نفلی روزے کی قضا واجب نہیں ہے اگر رکھے تو مستحب ہے۔ تاہم اس طرح کہ عمل کو اپنی عادت نہیں بنانا چاہیے۔ مذکورہ روایت ضعیف ہے۔