Book - حدیث 2420

كِتَابُ الصَّیامِ بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُخَصَّ يَوْمُ الْجُمُعَةِ بِصَوْمٍ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ لَا يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ, إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ بِيَوْمٍ أَوْ بَعْدَهُ.

ترجمہ Book - حدیث 2420

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: جمعے کا دن خاص کر کے روزہ رکھنا منع ہے سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ” تم میں سے کوئی شخص جمعے کا روزہ نہ رکھے مگر یہ کہ اس سے پہلے ایک دن روزہ رکھے یا ایک دن بعد ۔ “ روزے کے لیے صرف جمعہ کے دن کو خاص کر لینا یا رات کے قیام و نوافل کے لیے جمعہ کی رات کو خاص اہتمام کرنا جائز نہیں۔ اس منع کی علت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ سوائے اس کے کہ جمعہ کے دن کو عید کا دن کہا گیا ہے اور یہ خاص ذکر و عبادت کا دن ہے۔ حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے فتح الباری میں اور پھر علامہ شوکانی رحمة اللہ علیہ نے نیل الاوطار (4/281) میں ان علل کا ذکر کیا ہے اور اشکالات بھی وارد کیے ہیں۔ کچھ لوگ جمعہ کی رات کو صلاة الرغائب پڑھتے ہیں جو صوفیوں کی ایجاد کردہ بدعت ہے۔ بعض اوقات جمعرات اور جمعہ یا ان راتوں کو درس و تبلیغ کا اہتمام کیا جاتا ہے تو اس میں ان شاءاللہ کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ یہ مجالس معروف عبادت نہیں۔ یہ اعمال انتظام و سہولت کے پیش نظر ہوتے ہیں، جمعے کی خصوصیت سے نہیں۔ واللہ اعلم.