Book - حدیث 2399

كِتَابُ الصَّیامِ بَابُ تَأْخِيرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا تَقُولُ: إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ، حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ .

ترجمہ Book - حدیث 2399

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: رمضان کی قضاء کرنے میں تاخیر کرنا ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزے باقی ہوتے اور میں ان کی قضاء نہ کر پاتی تھی کہ شعبان آ جاتا ۔ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کے باعث انہیں موقع نہیں ملتا تھا کہ روزے رکھ سکیں حتی کہ شعبان آ جاتا اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے روزے رکھتے تھے تو انہیں بھی قضا کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ (2) اس یقین پر کہ روزے کی قضا کرنے کا موقع مل جائے گا، تاخیر کرنا مباح ہے۔ (3) شوہر کی خدمت کا اہتمام کرنا بیوی کے فرائض میں شامل ہے۔ (4) اگر رمضان آ جائے اور قضا نہ کر سکے تو رمضان کے بعد قضا کرے۔ اس صورت میں کچھ صحابہ و تابعین وغیرہم کا قول ہے کہ قضا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائے اور کچھ کہتے ہیں کہ سوائے قضا کرنے کے اور کچھ لازم نہیں ہے۔