Book - حدیث 2388

كِتَابُ الصَّیامِ بَابُ فِيمَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ صحیح حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ ح، وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَذْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ -زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، أَنَّهُمَا قَالَتَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا، -قَالَ عَبْدُ اللَّهِ الْأَذْرَمِيُّ فِي حَدِيثِهِ:- فِي رَمَضَانَ, مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ. قَالَ أَبو دَاود: وَمَا أَقَلَّ مَنْ يَقُولُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ يَعْنِي يُصْبِحُ جُنُبًا فِي رَمَضَانَ وَإِنَّمَا الْحَدِيثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ.

ترجمہ Book - حدیث 2388

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: جو کوئی رمضان میں صبح کو جنبی ہو کر اٹھے امہات المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ ؓا سے مروی ہے ، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو جنبی ہو کر اٹھتے ، عبداللہ اذرمی نے اپنی روایت میں کہا کہ رمضان میں ، جماع کی بنا پر نہ کہ احتلام سے اور پھر روزہ رکھ لیتے ۔ ¤ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ «صبح جنبا في رمضان» کا لفظ بہت کم راوی ذکر کرتے ہیں ۔ ( صحیح ) حدیث کے لفظ یہ ہیں «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصبح جنبا وهو صائم» ” نبی کریم ﷺ جنابت کی حالت میں صبح کرتے اور آپ روزہ رکھے ہوئے ہوتے ۔“ فجر صادق کی ابتدائی ساعات میں انسان اگر جنابت کی حالت میں روزے کی ابتدا کرے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ بروقت غسل کر کے نماز میں شریک ہو جائے مگر بلا عذر شرعی اپنی اس کیفیت کو طول دینا ناجائز اور روزے میں عیب ہے۔ مرد اور عورت دونوں کے لیے یہی مسئلہ ہے۔