Book - حدیث 2371

كِتَابُ الصَّیامِ بَابٌ فِي الصَّائِمِ يَحْتَجِمُ صحیح حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ. قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاهُ ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.

ترجمہ Book - حدیث 2371

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: روزے دار سینگی لگوائے تو...؟ سیدنا ثوبان ؓ ، نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” سینگی لگانے والا اور لگوانے والا مفطر ( روزہ کھولنے والے ) ہو گئے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ ابن ثوبان نے بھی اپنے والد سے بسند مکحول اس کی مانند روایت کیا ہے ۔ (افطر الحاجم والمحجوم) کے معنی میں امام احمد اور اسحاق بن راھویہ نے ظاہری معنی مراد لیے ہیں ان کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اور کچھ دوسرے اہل علم یہ معنی کرتے ہیں کہ ان کا روزہ ٹوٹنے کے قریب ہو گیا۔ گویا اس میں زجر اور کراہت کا مفہوم ہے۔ واللہ اعلم، اس دوسرے معنی کی رُو سے اس باب کی روایات اور اگلے باب کی روایات، جن میں اس کا جواز ہے، کے درمیان تطبیق ہو جاتی ہے۔