Book - حدیث 2362

كِتَابُ الصَّیامِ بَابُ الْغِيبَةِ لِلصَّائِمِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ >مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالْعَمَلَ بِهِ, فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ. وقَالَ أَحْمَدُ: فَهِمْتُ إِسْنَادَهُ مِنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَأَفْهَمَنِي الْحَدِيثَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ أُرَاهُ ابْنَ أَخِيهِ.

ترجمہ Book - حدیث 2362

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: روزہ دار ہو کر غیبت کرنا سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص جھوٹ اور بے ہودہ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے ، تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانے پینے کے چھوڑ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ “ ¤ احمد بن یونس نے کہا : مجھے اس کی سند ابن ابی ذئب نے اور یہ حدیث اس آدمی نے سمجھائی جو اس کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا ، جو غالباً اس کا بھائی تھا ۔ اللہ تعالیٰ کو بنی آدم کے کسی عمل کی کوئی حاجت نہیں۔ اس کی اپنی احتیاج کے تحت ہی اسے شرعی امور کا پابند کیا گیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان اپنی تمام تر گفتگو اور تمام کاموں میں اپنے آپ کو تمام محرکات سے دور رکھے۔ غیبت نہ کرے، جھوٹ نہ بولے، چغلی نہ کھائے، حرام چیزوں کو فروخت نہ کرے، جب پورا مہینہ آدمی ان چیزوں سے دور رہے تو امید ہے کہ اس کا نفس سال کے بقیہ مہینوں میں بھی ان چیزوں سے اللہ کے فضل و کرم سے محفوظ رہے گا۔ لیکن انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سارے روزہ دار، رمضان اور غیر رمضان میں کوئی فرق نہیں کرتے، وہی جھوٹ، بے ہودہ گفتگو، دھوکہ وغیرہ اپنی عادت کے مطابق جارہ رہتا ہے۔ ان کے اوپر رمضان المبارک کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بلاشبہ حدیث میں مذکورہ اعمال روزے کو نہیں توڑتے مگر اس کے اجروثواب میں کمی ضرور آجاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب کثرت سے ان اعمال کی پروا نہ کی جائے تو روزے کا اجر ہی ضائع ہو جائے۔