Book - حدیث 2339

كِتَابُ الصَّیامِ بَابُ شَهَادَةِ رَجُلَيْنِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ شَوَّالٍ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ, لَأَهَلَّا الْهِلَالَ أَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا. زَادَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ.

ترجمہ Book - حدیث 2339

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: شوال کا چاند دیکھنے میں دو آدمیوں کی شہادت ہونی چاہیے ربعی بن حراش ‘ اصحاب نبی کریم ﷺ میں سے کسی سے روایت کرتے ہیں کہ رمضان کے آخری دن کے متعلق لوگوں کا اختلاف ہو گیا ۔ تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اﷲ کی گواہی دی ( قسمیں اٹھائیں ) کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا ہے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کر لیں ۔ ¤ اور خلف بن ہشام کی روایت میں مزید یہ ہے کہ آپ نے فرمایا ” اگلے دن صبح کو ( عید پڑھنے کے لیے ) عید گاہ جائیں ۔ “ رمضان المبارک کا چاند ہو جانے کا یقین یا تو شعبان کے تیس دن پورے ہو جانے پر ہے یا لوگوں کی گواہی پر کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے، خواہ کوئی ایک عادل مسلمان ہی ہے، جیسے کہ اگلے باب کی احادیث میں آ رہا ہے۔ اسی طرح انتہائے رمضان کے موقع پر بھی۔ تاہم عام فقہاد و عادل مسلمانوں کی رؤیت کو ضروری سمجھتے ہیں جبکہ ابوثور، ابوبکر بن منذر، اہل ظاہر اور امام حسن کی امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ سے ایک روایت میں ایک مسلمان کی رؤیت کو بھی حجت سمجھا گیا ہے۔ علامہ شوکانی رحمة اللہ علیہ کی ترجیح بھی یہی معلوم ہوتی ہے کہ روزے چھوڑنے کے موقع پر دو آدمیوں کی گواہی کسی معیاری دلیل سے ثابت نہیں۔ مالی معاملات ہی ایسے ہیں جہاں دو گواہ لازم ہوتے ہیں۔ مگر روزوں کے متعلق صریح حکم ہے کہ چاند دیکھ کررکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ اور عبادت میں خبر واحد معتبر ہوتی ہے۔ (فقه السنة للسيد سابق‘ بم يثبت الشهر‘ ونيل الاوطار‘ باب ما يثبت به الصوم والفطر من الشهور) نیز عید کا چاند ہونے کی خبر اگر دیر سے ملے اور عید کے لیے جمع ہونا ممکن نہ ہو تو اگلے دن عید کی نماز پڑھ لی جائے۔